Ghair Mumkin hy k haalaat ki guthi suljhay
Ahl e Danish ny bohat soch k uljhai hy
Tuesday, May 20, 2008
Thursday, May 15, 2008
mohsin's poetry1
ab osko kho raha hon barary ishtiaq sy
wo jisko dhondny mein zamana laga mujhy
mohsin hajom e yas m jeeny ka shoq bi
marny ka ek haseen bahana laga mujhy
wo jisko dhondny mein zamana laga mujhy
mohsin hajom e yas m jeeny ka shoq bi
marny ka ek haseen bahana laga mujhy
Monday, May 12, 2008
mohsin naqvi, page 2
وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی
کون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنی
ہر ستمگر کو یہ محبوب سمجھ لیتی ہے
کتنی خوش فہم ہے کمبخت جوانی اپنی
دشمنوں سے ہی غم دل کا مداوا مانگیں
دوستوں نے تو کوءی بات نہ مانی اپنی
آج پھر چاند افق پر نہیں ابھرا محسن
آج پھر رات نہ گزرے گی سہانی اپنی
mohsin naqvi, محسن نقوی
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگ
اابھی تو سوءے تھے مقتل کو سرخرو کر کے
یہ کون کرتا ہے ہواءوں سے مخبری جا کر
چراغ جب بھی جلاتا ہوں روشنی کے
نوشی گیلانی ریمکسى noshi gillani remix
ریمکس
سارے چاول ابال کر رکھے
جو بچے وہ سنبھال کر رکھے
موسم دال تیری چاہت میں
ساری پلیٹوں میں نکال کر رکھے
جن کی بدبو محال کرتی تھی
وہ فریج سے نکال کر رکھے
نوشی گیلانی
نوشی گیلانی
جانے کب سے سنبھال کر رکھے
سب ارادے سنبھال کر رکھے
موسم عشق تیری بارش میں
خط جو بھیگے سنبھال کر رکھے
جن کی خوشبو اداس کرتی تھی
وہ بھی گجرے سنبھال کر رکھے
Subscribe to:
Posts (Atom)